فیض یاب

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - فائدہ حاصل کرنے والا، نعمت پانے والا، عنایتوں سے بہرہ ور۔ "عظیم ہستی . گویا ماضی سے فیض پاتی، اور حال و مستقبل کو فیضیاب کرتی ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، غالب کون ہے۔ ٩١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم فیض کے بعد فارسی مصدر یافتن سے مشتق صیغہ امر 'یاب' بطور لاحقہ فاعلی لانے سے مرکب توصیفی بنا جو اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٥٤ء کو "غنچہ آرزو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فائدہ حاصل کرنے والا، نعمت پانے والا، عنایتوں سے بہرہ ور۔ "عظیم ہستی . گویا ماضی سے فیض پاتی، اور حال و مستقبل کو فیضیاب کرتی ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، غالب کون ہے۔ ٩١ )